سکھر،آزادی مارچ کی تاریخ میں کوئی ردوبدل نہیں ہوگا،فضل الرحمان
سکھر میں جامعہ حمادیہ منزل گاہ میں مرکزی شوریٰ کے اجلاس کے بعد مولانا فضل الرحمٰن نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ایم آر ڈی کی تحریک میں بھی قیادت کو پابند سلاسل کردیا گیا تھا لیکن تحریک جاری رہی اور آخر کار حکمرانوں کو عوام کی بات مانی پڑی۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں کا موقف ایک ہی ہے، اس لیے جو جتنا ساتھ دے گا، اتنا بہتر ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ آزادی مارچ کی تاریخ میں ردوبدل کی کوئی گنجائش نہیں اور موجودہ حکومت کے پاس حکمرانی کا کوئی حق نہیں۔
مولانا فضل الرحمٰن نے شکوہ کیا کہ پارلیمانی کمیٹی نے ٹی او آرز تک نہیں بنائ
وزارت داخلہ اسلام آباد کی جانب سے جمعرات کو جاری ہونے والے ایک نوٹیفیکیشن کے مطابق حکومت کے پاس ایسی معقول وجوہات ہیں جس کی بنا پر وہ سمجھتی ہے کہ یہ پرائیویٹ ملیشیا ایک عسکری تنظیم کے طور پر کام کرسکتی ہے، نجی ملیشیا تنظیموں کا قیام آئین کے آرٹیکل 256 کی خلاف ورزی بھی ہے۔
وفاقی حکومت نے نوٹیفکیشن میں صوبوں کو بھی انصار الاسلام کے خلاف کارروائی کی ہدایت کی ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ جے یو آئی (ف) کی ذیلی تنظیم انصارالاسلام فورس قانون کی خلاف ورزی کا سبب بن سکتی ہے۔
دوسری جانب جمیعت علمائے اسلام (ف) کے آزادی مارچ کے دوران امن و امان سے متعلق کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کی تیاریوں کے تحت پولیس لائنز ہیڈکوارٹرز میں سیکڑوں مسلح اور عام پولیس کی انسداد فسادات مشقیں ہوئیں۔
اسلام آباد پولیس کے مطابق اکیس ہزار پانچ سو سیکیورٹی اہلکار آزادی مارچ کےحوالے سے اپنے فرائض سرانجام دیں گے۔